عمران خان کی سزا اور گرفتاری کی اصل وجہ کیا ہے؟فرخ حبیب نے اندر کی بات بتاتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

لاہور(سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت میاں فرخ حبیب نے پارٹی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی ،تین سال سزا اور گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ٹرائل جس میں قانونی تقاضوں کا قتل عام کیا گیا ہو، اس سے آنے والا فیصلہ کیسے انصاف پر مبنی ہوگا؟۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی سزا اور گرفتاری،تحریک انصاف نے بڑا اعلان کر دیا
”پاکستان ٹائم “کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹس کرتے ہوئے میاں فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ عمران خان 12 مئی سے زیر التوا مقدمہ ہمایوں دلاورجج کی عدالت سے ٹرانسفر کرنے کی درخواست کو مسترد کرنے،گزشتہ روز دوپہر میں فیصلہ سنایا گیا،مقدمہ واپس وہی جج سنے گا جو اپنا ذہن بتا چکا ہو،جج کا رویہ اور عمران خان سے متعلق بغض بھری فیس بک پوسٹوں کو نظرا انداز کردیا گیا،ایسا ٹرائل جس میں قانونی تقاضوں کا قتل عام کیا گیا ہو اس سے آنے والا فیصلہ کیسے انصاف پر مبنی ہو گا؟۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ فوجداری کیس عمران خان کو 3سال قید،1لاکھ جرمانہ

انہوں نے کہا کہ لیول پلینگ فیلڈ کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا وہ پوری کردی گئی، ہمایوں دلاور کے فیصلے کو بدترین عدالتی فیصلے کے طور پر تاریخ میں دیکھا جائے گا۔ فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کےخلاف 3 سال سزا کے فیصلہ کو پہلے ہی میڈیا پر پیش گوئیاں کروائی جارہی تھیں لیکن تاریخ یاد رکھے گی ،ایک بار پھر عدالت سے انصاف کا قتل عام کروایا گیا ہے،تحریری فیصلہ ابھی تک پہنچا نہیں ہوگا لیکن فکسڈ میچ کے تحت سب کو تیار کیا ہوا تھا ،عمران خان کو گرفتار کرکے پنجاب پولیس روانہ ہو گئی ہے،مقصد عمران خان کو جیل میں ڈالنا تھا لیکن کیونکہ پہلے غیر قانونی گرفتاری پر فوری رہائی ممکن ہو گئی تھی، اس لئے اس بار سزا دلوا کر جیل میں ڈالا جا رہا ہے اور نااہل کیا گیا تاکہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کوٹ لکھپت جیل منتقل

اپنا تبصرہ بھیجیں