موٹروے پولیس کا ہرصورت ایکسل لوڈ  کنٹرول پر عمل درآمد کرانے کا فیصلہ، ڈیڈلائن بھی سامنے آگئی 

لاہور (سٹاف رپورٹر) موٹروے پولیس نے کہا ہے کہ موٹرویز اور ہائی ویز پراوولوڈنگ پرقابو پانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم پر مکمل عمل درآمد کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا، مقرر کردہ ایکسل لوڈ سے زائد وزن لادنے پر مال بردار گاڑیوں کو15نومبر 2023کے بعد کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی،  ایکسل لوڈ کنٹرول ایک قومی مسئلہ ہے جس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا،موٹروے پولیس اور این ایچ اے قومی شاہراہوں پر اوور لوڈنگ پر قابو پائیں۔ تفصیلات کے مطابق   سیکرٹری مواصلات شیر عالم محسود اور آئی جی سلطا ن علی خواجہ کے زیر صدارت ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس ہو ا جس میں وزارت مواصلات، موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلیٰ حکام  نے شرکت کی ،  وفاقی سیکرٹریز برائے صنعت و پیدار، کامرس، فو ڈ اینڈ سیکیورٹی، میری ٹائم، ریلویز اور چاروں صوبوں کے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات شیر عالم محسود  کاکہناتھاکہ اوور لوڈنگ کی وجہ سے قومی شاہراہیں تباہ ہو رہ ہی ہیں جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان برداشت کر نا پڑتا ہے، وزارت مواصلات موٹروے پولیس کو ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم پر سوفیصد عملدآمد کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، وزارت صنعت و پیداوار تمام انڈسڑیل زون سے ملحقہ شاہراؤں پر وے اسٹیشن قائم کر کے گاڑیوں پر ایکسل لوڈ کنٹرول کو یقینی بنائیں،   ویٹ سٹیشنز (Weight Stations) پر نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی نگرانی میں گاڑیوں کا وزن ہو گا۔ آئی جی سلطان علی خواجہ نے کہا کہ  100فیصد ایکسل لوڈ پر عملدآمد کو یقینی بنانے کے لئے موٹروے پولیس کو مزید نفری اور لاجسٹک سپورٹ درکار ہو گی، اضافی وزن ہونے کی صورت میں بھاری جرمانے کے ساتھ اضافی سامان اتارا جائے گا۔ اس پر شیر عالم محسود کاکہنا تھاکہ  این ایچ اے اوور لود ڈگاڑیوں سے اضافی اتارے گئے سامان کو محفوظ رکھنے کیلئے وے اسٹیشن پر وئیر ہاؤسز تعمیر کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں