اگر الیکشن سے پہلے رزلٹ طے کرنے ہیں تو پھر۔۔۔۔بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خبردار کر دیا

نوشہرہ(بیورو رپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ بلدیاتی الیکشن سے خوف سے ڈر کے مارے بھاگتے تھے،ان کو عوام ایسا جواب دیں گے الیکشن میں کہ ان کو نسلوں تک یاد رہے گا،اگر الیکشن سے پہلے رزلٹ طے کرنے ہیں تو پھر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں،چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں، 8 فروری کے الیکشن کیلئے یقینی بنائیں گے کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
”پاکستان ٹائم “کے مطابق نوشہرہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے جیالوں نے نہ صرف تین آمروں کا مقابلہ کیا بلکہ دہشتگردوں اور انتہاء پسندوں کا بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا،قربانیاں دی،شہادت قبول کی مگر اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے،پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جو پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتی ہے،جو اشرافیہ کی نہیں بلکہ غریبوں کی نمائندگی کرتی،اس ملک کے کسانوں،مزدوروں،طالب علموں اور چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتی ہے،پیپلز پارٹی اپنی سیاست کا نہیں ملک اور عوام کا سوچتی ہے جبکہ میاں صاحب صرف امیر لوگوں کےمسائل حل کرنا چاہتے ہیں،ملکی مسائل سے نکلنے کا واحد حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی،بے روزگاری اور غربت تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے،دہشت گردی ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہے،مہنگائی بڑھنے سے اسلام آباد کو کوئی پرواہ نہیں، ایک طرف معیشت دوسری طرف دہشت گردی کی لہر ہے،ملک میں سیاسی اور جمہوری بحران ہے،سیاستدانوں نے اپنی پوری زندگی جمہوریت کی جدوجہد میں گزاری آج وہ مایوس ہیں،لوگ پوچھ رہے ہیں کیا یہ وہی جمہوریت ہے جس کا وعدہ قائد عوام نے کیا تھا؟معاشرے میں اتنی تقسیم اور نفرت پہلے کبھی نہیں دیکھی،افغانستان کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں،آئینی اور جمہوری مسائل پیدا ہو رہے ہیں،تمام مسائل کا حل صرف اور صرف پیپلزپارٹی نکال سکتی ہے،ان تمام مسائل کا حل صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بزرگ سیاستدان انتظامیہ کے زور پر الیکشن نہ لڑیں،اگر الیکشن سے پہلے نتائج طے کرنے ہیں تو الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں،شفاف الیکشن نہیں ہو گا تو نقصان عوام کا ہو گا،دو تہائی اکثریت کے دعوے کیے جا رہے ہیں،ہم کسی اور کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں،عوام کا فیصلہ مانیں گے،ایک وزیر اعظم بنے گا تو دوسرا دھاندلی کا الزام لگا کر دھر نے شروع کر دے گا،سیاست دانوں سے اپیل ہے وہ اپنی تاریخی جدوجہد کو صرف ایک الیکشن کے لیے ضائع نہ کریں،اپنے منشور سیاسی سوچ پر الیکشن لڑیں،انتظامیہ کے زور پر الیکشن نہ لڑیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں