”سائفر کیس میں سزائے موت یا عمر قید“شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کے معاملے میں سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خان نیازی اور شاہ محمود قریشی پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کا سیکشن 9 لگایا گیا ہے جس میں سزا موت یا عمر قید بنتی ہے۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ جرم پراکسانے،جرم کی سازش یا معاونت کرنے والے کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کا سیکشن 9 لگایا گیا ہے جس میں سزا موت یا عمر قید بنتی ہے،ملزمان نے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگا جس کے تحت سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران ہونے والے اقدامات پر صدر،گورنر اور وزرا کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی،عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سائفر کے حوالے سے انکشاف گذشتہ برس 27 مارچ کو جلسے میں کیے جبکہ شاہ محمود قریشی نے ان کی معاونت کی۔عدالت نے لکھا کہ یہ فعل سرکاری فرائض کی انجام دہی کے زمرے میں نہیں آتا،عمران خان پر لگی دفعات میں سزا عمر قید اور سزائے موت ہے جب کہ شاہ محمود قریشی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بلا شبہ ضمانت سزا روکنا نہیں،عمر قید اور سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دینے میں احتیاط سے کام لیتی ہیں،اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نہ ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،عدالت ضمانت مسترد کر کے ہدایت کرتی ہے کہ ٹرائل 4 ہفتے میں مکمل کیا جائے۔اٹارنی جنرل کا ہائی کورٹ میں کہنا تھا کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو سزائے موت نہیں ہو گی جس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہ کہ اٹارنی جنرل تو خود کہہ رہے پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں توسیع کر رکھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں