نیب نے سابق خاتون اول بشری بی بی سے کون کونسے سوال پوچھے؟جان کر ہر کوئی دنگ رہ جائے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)عبدالقادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب)میں پیشی کے موقع پر سابق خاتون اول اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیشی حکام نے تفصیلی سوال و جواب کئے ،بشریٰ بی بی سے نیب حکام نے 11سوالات کا جواب مانگا ہے جن کی تفصیل سامنے آ گئی ہے۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق سابق خاتون اوّل بشریٰ بی بی نیب کے سامنے پیش ہوئیں،جہاں ان کے سامنے 11 سوال رکھے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سوالات کا تعلق بشریٰ بی بی،عمران خان اور ذلفی بخاری سے ہے، 7 سوالات ٹرسٹ اور یونیورسٹی کے اکاونٹس سے متعلق ہیں،نیب کی جانب سے پوچھے گئے 11سوالات کے جواب بشریٰ بی بی کی لیگل ٹیم جمع کروائے گی۔نیب کی جانب سے پہلا سوال بشریٰ بی بی سے یہ کیا گیا کہ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی اور کیا آپ نے اسلامی تدریسی کورس بھی کیا؟دوسرے سوال میں پوچھا گیا کہ القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ بنانے کا مقصد کیا تھا؟تیسرے سوال میں کہا گیا کہ کیا بطور ٹرسٹی ہونے کے ساتھ بطور استاد بھی کوئی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں؟چوتھے سوال میں نیب نے پوچھا کہ کیا بطور ٹرسٹی یا استاد یونیورسٹی سے کسی قسم کی تنخواہ یا مراعات لیتی رہی ہیں؟پانچویں سوال میں نیب نے پوچھا کہ القادر یونیورسٹی بنانے کا خیال کس کا تھا اور جگہ کا تعین کس نے کیا؟ چھٹے سوال میں پوچھا گیا کہ آپ بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی میں کیا ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں؟آٹھویں سوال میں نیب نے بشریٰ بی بی سے پوچھا کہ فرحت شہزادی کو آپ کیسے جانتی ہیں؟کیا آپ ان کے مالی معاملات اور کردار کے بارے میں مطمئن ہیں۔کیا آپ کو علم ہے کہ فرحت شہزادی نے ہاوسنگ سوسائٹی سے اسلام آباد میں 240 کنال زمین حاصل کی؟بشریٰ بی بی سے نیب آفس میں الگ کمرے میں تفتیش کی گئی،دوران تفتیش نیب کی ٹیم میں خواتین ممبر بھی موجود تھی۔نیب کی جانب سے آخری تین سوال پیسے کی ٹرانزیکشن کے بارے میں ہیں، 190ملین پاونڈ سکینڈل کیس میں بشریٰ بی بی 15 نومبر تک ضمانت پر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں