ہر چوتھا پاکستانی ذیابیطس کا شکار، طرز زندگی تبدیل کرنا ہوگا: پروفیسر الفرید ظفر نے خبردار کر دیا

لاہور(ہیلتھ رپورٹر) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر چوتھا فرد ذیابیطس کے موذی مرض کا شکار ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگ شوگر میں مبتلا ہو کر امراض قلب و گردہ اور امراض چشم کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ یہ مرض عطائیوں کے ٹوٹکے اور چھاڑ پھونک سے ختم نہیں ہوتا بلکہ علاج میں تاخیر سے انسانی صحت میں مزید پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ مستند معالج سے اپنا علاج معالجہ کروائیں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں ذیابیطس کے مرض سے متعلق بچاو¿ و آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہر صدیق، ڈاکٹر کاشف عزیز، ڈاکٹر محمد مقصود، ڈاکٹر عمر اعجاز، ڈاکٹر نادیہ ارشد، یاسمین شریف، بینش سردار، اقرائ شیرکے علاوہ لاہور کے مختلف ہسپتالوں کے پروفیسرز،نوجوان ڈاکٹرز،نرسز اور میڈیکل سٹوڈنٹس کثیر تعداد میں موجود تھے۔ پروفیسر طاہر صدیق نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اگرچہ ذیابیطس متعددی بیماری نہیں تاہم اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور یہ مرض موروثی طور پر بھی والدین سے اولاد میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
طبی ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں 3سے 4 کروڑ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جس میں سے 25 فیصدکویاتوعلم ہی نہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں یا پھر مناسب علاج کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دینے کے سبب ا±ن کو گردوں،آنکھوں اور دل کی بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نامناسب غذا، موٹاپا، نامناسب لائف اسٹائل اس مرض کی اہم وجوہات ہیں، اس کے علاوہ اگرخاندان میں کسی فرد کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہے تو ایسے شخص میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین نے علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اگر پیاس زیادہ لگے، پیشاب بار بار آئے یا اچانک وزن تیزی سے کم ہونا شروع ہوجائے تواس صورت میں فوراً مستند ڈاکٹرسے رجوع کریں کیونکہ شوگر کا مرض جسم کے ہر حصے کو نقصان پہنچاتاہے تاہم میڈیکل سائنس کی ترقی کے سبب ذیابیطس جیسے موذی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے اورمریض ایک خوشگوار زندگی گزار سکتا۔انہوں نے بتایا کہ ذیابیطس اندھے پن، گردے فیل ہونے، فالج اور ہاتھ پاو¿ں سے محرومی کی اہم وجہ ہے لیکن پاکستانی کم عمری میں ہی اس کے شکار ہورہے ہیں البتہ احتیاطی تدابیر، ادویات، ورزش اور پرہیز سے ذیابیطس کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روائتی پیغامات دینے کی بجائے اس بیماری کے خلاف بند باندھنے کے لئے سخت محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی جس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری طب سے وابستہ افراد پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کی آسائشوں نے انسان کو کاہل اور سست بنا دیا ہے جس کی وجہ سے جدید سہولیات سے آراستہ لوگ ذیابیطس کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امراض جغرافیائی حدود یا کسی دین کے ماننے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانیت ا±ن کے نشانے پر ہوتی ہے لہذا بیماریوں کی روک تھام کا علاج دریافت کرنا اور ریسرچ کے لئے دنیا بھر کے میڈیکل ایکسپرٹ اجتماعی کوششوں سے محض انسانیت کی بھلائی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں جس کی بدولت آج پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بہت سی بیماریوں کا خاتمہ ہو چکا جس میں چچک سر فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ذیابیطس(شوگر) کے مرض کے موثر علاج اور اس کے خاتمے کے لئے مربوط کوششیں کی جائیں تاکہ انسانیت کے اس مشترکہ دشمن کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پروفیسر الفرید ظفرکا مزید کہنا تھا کہ ذیابیطس بیماریوں کی ماں ہیں جو بے شمار امراض کو جنم دیتی ہے،اس کے موذی امراض سے حاملہ خواتین بھی محفو ظ نہیں رہتیں اور پہلے سے کمزور صحت کے افراد پر شوگر کے اثرات بہت زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ لوگوں میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے طرز زندگی اور عادات کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جائے تاکہ لوگ فاسٹ فوڈ، مرغن اشیا،مٹھائیاں اور کولڈرنکس کے استعمال سے اجتناب برتیں اور روزانہ ورزش کو زندگی کا معمول بنائیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے نے آگاہی سیمینار کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر طاہر صدیق اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہااور مستقبل میں بھی ایسے آگاہی سیمینار کے انعقاد کا عندیہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں