قمر زمان کائرہ کی عمران خان پر کڑی تنقید،عدلیہ کو بھی مشورہ دے دیا

لاہور(وقائع نگار خصوصی)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر اورپاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ٹانگیں کٹی ہوئی ہوں تو 5 ماہ میں ٹھیک ہوجاتی ہیں لیکن عمران خان کا ایسا کون سا زخم ہے جو ٹھیک نہیں ہورہا؟عارف علوی نے ملک کا صدر بننے کے بجائے عمرانی جیالا بننے کی کوشش کی،عدلیہ کو بھی اپنا احترام بحال کرنا ہو گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے معاملے پر ڈرامہ کیا گیا،کارکنان کو بلاکر ریلی نکالی گئی، عمران خان نے حفاظتی ضمانت کی درخواست کی،ٹرک پر چڑھ کرجلسہ ہو سکتا ہے،عدالت نہیں آسکتے،ملک میں2 نہیں ایک قانون ہونا چاہئے،عدالت کا احترام فیصلوں سے ہو گا،ڈنڈے سے احترام نہیں ہوتا،ڈنڈے سے تو خوف پیدا ہوتا ہے،عدالت نہیں آسکتے،جس کیس میں راہداری لینی ہوتی ہے،عدالتوں کی جانب سے تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے ملک کے بجائے پی ٹی آئی کا صدر ہونے کا ثبوت دیا،آئین کو ارادے سے توڑا گیا،صدر نے عمران خان کے حکم پر الیکشن کمیشن کو خط لکھا،صدر کے اعلان پر عملدرآمد نہ ہوا تو اچھی مثال نہیں ہوگی،آئین میں صدر اور گورنرز کے اختیارات واضح ہیں،آئین کے مطابق صدر کو انتظامی اختیارات نہیں ہیں،الیکشن کروانے کا اعلان صدر یا حکومتیں نہیں کرتیں،صدر کا کوئی انتظامی اختیار نہیں،صدر صاحب نے جو اختیار استعمال کیا ہے اس کا کوئی وجود نہیں،الیکشن کمیشن با اختیار اور آئینی ادارہ ہے،الیکشن کمیشن نے انتخابات کروانا اور آئین کے مطابق چلنا ہے،انتخابات کروانے کی صوابدید مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے پاس ہے،صدر کی جانب سے آئین کی ایک شق پڑھی گئی،دوسری شق ملا کر پڑھی جائے تو معاملہ حل ہوجائے گا،جو اختیار صدر کے پاس نہیں تھا اس کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی،کل صدر پاکستان نے آئین توڑا اور آئین سے کھلواڑ کیا ہے،صدر نے ایسے ہی اختیار استعمال کیا جیسے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کیا تھا،جو سٹیج ڈرامہ پہلے پلے ہوا تھا اب بھی ایسا ہوا ہے، صدر نے ایک مشاورتی اجلاس طلب کیا اور الیکشن کمیشن کو حکم دے دیا،وفاقی حکومت اور کابینہ فیصلے کرتی ہے، صدر اس پر عمل درآمد کرواتا ہے،جو صوبائی حکومت فیصلہ کرے گی گورنر اس پر عمل کرواتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں