170 ارب روپے کے نئے ٹیکس ،فنانس بل آج پارلیمان میں پیش کیا جائیگا

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے بعد قرض حصول کیلئے حکومت نے مہنگائی کا ایک اور بم عوام پر گرانے کا فیصلہ کر لیا ہے ، جس کیلئے ایک کھرب 70 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کیلئے فنانس بل پارلیمان میں پیش کیا جائیگا۔
”پاکستان ٹائم “کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے نئے ٹیکسز لگانے سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے حکومت آج فنانس بل ایوان میں پیش کرے گی،ابتداً حکومت نے ایک کھرب 70 ارب روپے کے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے ’ٹیکس اور نان ٹیکس اقدامات‘ متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر عارف علوی سے ملاقات کی تھی اور انہیں آئی ایم ایف کی شرائط اور ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا تھا، ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آرڈیننس جاری کرنے سے’انکار‘ کے فوری بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس ترمیمی بل ، فنانس بل 2023 کی منظوری دی گئی جسے اب دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔
تاہم آخری لمحات میں اس نے نان ٹیکس اقدامات بالخصوص ایک کھرب روپے اکٹھے کرنے کے لیے فلڈ لیوی کی تجویز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
رات گئے ہونے والی پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی سگریٹس پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی بڑھانے کے لیے ایس آر او 178 جاری کیا جس سے تمباکو کی مصنوعات پر عائد ٹیکس سے 60 ارب روپے اکٹھے ہوں گے۔
اس کے علاوہ حکومت جنرل سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے سے مزید 55 ارب روپے حاصل کرے گی۔
اس کے علاوہ بقیہ 55 ارب روپے ہوائی جہاز کے ٹکٹس، چینی کے مشروبات پر ایکسائیز ڈیوٹی بڑھا کر اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے اکٹھے کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں